قرآن کی تلاوت کریں، قرآن کا پیغام سنیں

قرآن کی تلاوت کریں، قرآن کا پیغام سنیں
محی الدین غازی
قرآن مجید کی تلاوت بہت مبارک اور نہایت مفید عمل ہے۔ بگڑتی اور خراب ہوتی اس دنیا کو سنبھالنے اور بہتر بنانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ قرآن مجید کی تلاوت ہے۔ اپنے آپ کو بنانے اور سنوارنے کا بھی ایک ہی راستہ ہے اور وہ بھی قرآن مجید کی تلاوت ہے۔ تلاوت اپنے آپ میں نیکی کا کام ہے، اور تلاوت سے نیکیوں کے سب راستے بھی روشن ہوتے جاتے ہیں۔ جس عظیم کلام کی تلاوت کرتے ہوئے انسانوں کی زندگی میں نیکیوں کی بہار آجائے، اس کے ایک ایک حرف کے بدلے دس دس نیکیوں کا ثواب مل جانا تعجب کی بات نہیں ہے۔
قرآن مجید کی تلاوت سے انسان کو حقیقی علم حاصل ہوتا ہے۔ تلاوت کرتے ہوئے معلوم ہوتا رہتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں سے کب کیا چاہتا ہے۔ اتنی اہم بات تلاوت کے بغیر معلوم ہی نہیں ہوسکتی۔ اس زندگی میں ایک بندے کے لئے سب سے اہم دریافت یہ ہے کہ اسے اپنے رب کی پسند اور ناپسند یقینی طور سے معلوم ہوجائے۔ یہ دریافت عظیم ترین کامیابی کی شاہ کلید ہے۔
قرآن مجید کی تلاوت کا اثر زندگی پر نظر آنا چاہئے، اتنا واضح اثر کہ ہر کوئی اسے محسوس کرلے۔ اگر تلاوت کا کوئی اثر زندگی پر نظر نہیں آتا تو سمجھ لو کہ تلاوت کے عمل میں کوئی بڑی کمی رہ گئی ہے، یا تو سمجھے بغیر محض قرآن خوانی ہورہی ہے، یا پھر دماغ سمجھ رہا ہے مگر دل اثر نہیں لے رہا ہے۔ تلاوت کے عمل میں زبان اور دماغ کے ساتھ ساتھ دل کی شرکت نہایت ضروری ہے۔
ضروری ہے کہ تلاوت کرنے والے کی زندگی تلاوت کے ساتھ ساتھ ہر لحظہ بہتر ہوتی جائے، دیکھنے اور سوچنے کا انداز بدلے، لوگوں کے ساتھ پیش آنے کا طریقہ بدلے، چاہتیں اور نفرتیں بدلیں، فکرمندیاں اور اندیشے بدلیں۔ غرض تلاوت کے ذریعہ شخصیت کے ہر پہلو کی اصلاح ہوتی رہے، اور زندگی خوب سے خوب تر ہوتی جائے۔ جس تلاوت سے زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی نہ ہو سکے وہ تلاوت خود اصلاح طلب ہے۔
قرآن مجید کی تلاوت کرنا حقیقت میں بلندیوں کا سفر طے کرنا ہے، وہ بلندیاں جو صرف تلاوت کرنے والے کے حصے میں آسکتی ہیں۔ جو شخص دنیا میں قرآن مجید کی تلاوت کا حق ادا کرے گا، قیامت کے دن اس سے کہا جائے گا: جس طرح تم دنیا میں تلاوت کرتے تھے، اب یہاں بھی تلاوت کرتے ہوئے جنت کی بلندیوں کو سر کرتے جاؤ، جس بلندی پر تمہاری تلاوت کا سلسلہ رکے گا وہی بلندی تمہارا مقام قرار پائے گی۔ دانائی کا تقاضا ہے کہ یہاں زندگی کی آخری سانس تک تلاوت کا سلسلہ جاری رہے، تاکہ وہاں جنت میں اونچے سے اونچا مقام حاصل ہوسکے۔
تلاوت کرتے ہوئے انسان سوچے کہ قرآن مجید کی رو سے اس کی پہچان کیا بننی چاہئے۔ اگر تلاوت کرنے والے کو قرآن مجید میں سب سے زیادہ زور ایمان اور عمل صالح پر نظر آئے، تو یہی خوبی اس کی پہچان بن جائے۔ وہ سارے انسانوں میں سب سے زیادہ مضبوط ایمان والا، اور سارے انسانوں میں سب سے زیادہ اچھے کام کرنے والا ہوجائے۔ اس کے ایمان کی مضبوطی پر پہاڑ تعجب کریں، اور اس کے کردار کی بلندی پر ستارے رشک کریں۔
تلاوت کرتے ہوئے انسان غور سے دیکھے کہ قرآن مجید میں کن کاموں کا حکم بار بار دیا گیا ہے، تلاوت کے نتیجے میں وہ سارے کام زندگی میں بھی اسی کثرت سے نظر آنے لگیں، جس کثرت سے قرآن مجید کی آیتوں میں نظر آتے ہیں۔ بار بار قرآن مجید ختم کرنے والے ایک بار اس طرح بھی ختم کرکے دیکھیں۔
قرآن مجید کی ایسی تلاوت مطلوب نہیں ہے جس میں زبان تلاوت سے تر ہوتی رہے اور باقی پورے وجود میں سوکھا پڑا رہے۔ قرآن مجید زندگی بخش کلام ہے، اس کی تلاوت بھی زندگی سے بھرپور ہونی چاہئے۔ تلاوت ایسی ہو کہ زبان قرآن مجید کی تلاوت کرے اور دل ودماغ کان لگا کر پوری توجہ سے قرآن مجید کا پیغام سنیں۔ تلاوت اس طرح ہو کہ تلاوت کرنے والوں کے دل ودماغ کا تزکیہ کرتے ہوئے قرآن مجید کا پیغام دوسرے انسانوں تک پہونچنے لگے۔ قرآن مجید میں اسی طرح تلاوت کرنے کو کہا گیا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنا دراصل قرآن مجید کا پیغام خود کو اور پھر سارے انسانوں کو سنانا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہورہا ہو، تو سمجھ لو کہ قرآن مجید کی تلاوت اس طرح نہیں ہورہی ہے جس طرح ہونی چاہئے۔
روز بروز بڑھتی اور سر چڑھتی ہوئی مادی ضرورتوں نے شہر کی سڑکوں ہی کو مصروف نہیں کیا ہے، فرد کے اندرون کو بھی بری طرح بھیڑ بھاڑ کا شکار بنادیا ہے۔ نہ دل میں ایمان ویقین کے لئے جگہ چھوڑی ہے، اور نہ زندگی میں اچھے کاموں کے لئے کوئی فرصت رکھی ہے۔ اگر دل یقین سے خالی ہوجائیں، اور زندگی اچھے کاموں سے عاری ہوجائے تو پھر انسان کے پاس کتے کی طرح ہانپتے رہنے کے سوا کیا رہ جاتا ہے۔ ذلت اور تکلیف کی اس کیفیت کا مداوا صرف قرآن مجید میں ہے۔ قرآن مجید ہی میں وہ قوت اور تاثیر ہے جو دل کو ایمان ویقین سے روشن کردے اور زندگی کو اچھے کاموں سے آراستہ کردے۔
قرآن مجید کی تلاوت اس طرح کریں کہ تلاوت کا حق بھی ادا ہو، اور زندگی میں تلاوت کی برکتیں بھی ظاہر ہوں۔ اس کے لئے تلاوت کے ساتھ ساتھ ترجمہ پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن سمجھے بغیر تلاوت کرنے میں مضائقہ ضرور ہے۔

خلع خالص بیوی کا حق ہے

خلع خالص بیوی کا حق ہے
(خلع کے نظام کی اصلاح پر ایک تحریر)

محی الدین غازی

میرے ایک بزرگ دوست کافی عرصے سے بہت پریشان ہیں، ان کی بیٹی اپنے شوہر کی بعض عادتوں سے بیزار ہے، اور کسی طور ساتھ رہنا نہیں چاہتی، شوہر نہ تو اپنی اصلاح کے لئے تیار ہے، نہ طلاق دے رہا ہے اور نہ خلع کے لئے آمادہ ہے، دار القضا کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ ہم اس کے مجاز نہیں ہیں کہ مذکورہ اسباب کی بنا پر نکاح فسخ کر سکیں۔

یہ صرف ایک کیس نہیں ہے، میرے علم میں مختلف شہروں کے ایسے کئی کیس ہیں، لڑکیاں کئی کئی سال سے میکے میں ہیں، اور شوہر انہیں علیحدگی کا پروانہ دینے کو تیار نہیں ہیں، وہ چونکہ نکاح کے بندھن میں بندھی ہوتی ہیں، اس لئے کہیں اور شادی کے بارے میں بھی نہیں سوچ سکتی ہیں۔ اس صورت حال میں تشویش کا ایک پہلو تو ان خواتین کی حالت زار ہے، ان کی اس تکلیف دہ حالت پر خاموشی کسی طور مناسب نہیں ہے۔ تشویش کا دوسرا بہت خطرناک پہلو یہ ہے کہ کہیں یہ مسئلہ آگے چل کر شریعت کو نشانہ بنانے کا ایک اور بہانہ نہ بن جائے۔

اسلامی شریعت رحمت والی شریعت ہے، اس میں کوئی ایسا حکم نہیں ہے جس سے زندگی عذاب بن جائے، اگر ایسا کہیں نظر آتا ہے، تو اس میں کہیں نہ کہیں ہمارے عمل کی کوتاہی یا اجتہاد کی غلطی ضرور کارفرما ہے، ایسے میں ہمیں اصلاح حال کے لئے فکرمند ہونا چاہئے، اس کا انتظار ہرگز نہیں کرنا چاہئے کہ جب بات حکومت اور عدالت کی سطح پر پہونچے، اور مسئلہ شدید بحران کی شکل اختیار کرلے تو ہم اس بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کریں۔

یہ بحث کبھی بھی زور پکڑ سکتی ہے کہ جب نکاح دو طرفہ معاہدہ ہے جو دونوں کی رضامندی سے وجود میں آیا ہے، تو اس معاہدہ کو توڑنے کا اختیار صرف مرد کے پاس کیوں ہے، یا تو یہ معاہدہ دونوں کی رضامندی سے ٹوٹے، یا پھر دونوں میں سے ہر کسی کو اسے توڑنے کا اختیار رہے، یہ کیسا انصاف ہے کہ مرد تو کسی بھی وجہ سے جب چاہے طلاق دے دے، اور عورت خلع کا حق بھی مرد کی مرضی کے بغیر استعمال نہیں کرسکے؟ اگر یہ بحث نہ بھی چھڑے تو بھی ظلم سے چشم پوشی کرنا کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے۔

واضح ہو  کہ قانون کی غلط تشریح یا اس کا غلط استعمال ظلم کو جنم دیتا ہے، ظلم کی ایک صورت تو یہ ہے کہ مرد معقول وجہ کے بغیر غلط ارادے سے طلاق دے دے، اور ظلم کی دوسری صورت یہ ہے کہ عورت کے نہ چاہتے ہوئے بھی زبردستی اسے اپنی بیوی بناکر رکھے، یعنی خلع کے مطالبے کو پورا نہ کرے۔ افسوس ہمارے سماج میں دونوں طرح کے ظلم کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ کثرت وقلت کا فیصلہ تو صحیح سروے کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔

اسلامی لٹریچر میں خلع کو عورت کا حق بتایا جاتا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ جس طرح مرد کے پاس طلاق کا راستہ ہے، اسی طرح عورت کے پاس خلع کا راستہ ہے، لیکن واقعہ یہ ہے کہ طلاق کا راستہ تو مرد کے مکمل کنٹرول میں ہوتا ہے، لیکن خلع کا راستہ بھی عملا مرد ہی کے کنٹرول میں رہتا ہے، کیونکہ جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ عورت خلع کا راستہ اسی وقت اختیار کرسکتی ہے، جب کہ مرد اس کے لئے راضی ہو، اور اگر مرد راضی نہ ہو تو عورت کے لئے یہ راستہ بند ہوجاتا ہے۔

اس سلسلے میں اصلاح کے دو راستے ہیں اور دونوں پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔

ایک راستہ یہ ہے کہ لوگوں کی اخلاقی سطح بلند کی جائے، اور انہیں یہ بتایا جائے کہ عورت اگر خلع کا مطالبہ کرے تو مرد کو نہ دینی لحاظ سے یہ زیب دیتا ہے اور نہ اخلاقی لحاظ سے کہ وہ اس مطالبے کے باوجود اسے اپنی بیوی بنائے رکھنے پر اصرار کرے۔ ایسی صورت میں اسے چاہئے کہ پہلے اپنی اصلاح پر توجہ دے، ساتھ ہی بیوی کو سمجھائے اور منائے، لیکن اگر وہ ساتھ رہنے پر کسی طرح آمادہ نہ ہو تو جلد از جلد اس کے مطالبہ خلع کو پورا کردے۔ یہ اتباع سنت کا بھی تقاضا ہے اور مردانہ عزت ووقار کا بھی۔

یاد رکھئے، جب عورت خلع کا مطالبہ کردے، تو ٹال مٹول سے نقصان (Damage) میں اضافہ ہی ہوتا ہے، بات بڑھتی ہے، دونوں گھروں کی رسوائی اور جگ ہنسائی ہوتی ہے، باہمی نفرت میں اضافہ ہوتا ہے، اور آئندہ ملاپ کے امکانات کم ہوتے جاتے ہیں۔ اور اگر خلع کے مطالبے کو مرد جلدی پورا کردے تو بات زیادہ نہیں بگڑتی ہے، اور اس کا بھی بہت امکان رہتا ہے کہ آئندہ دونوں نئے سرے سے نکاح پر آمادہ ہوجائیں۔ کیوں کہ خلع کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ شوہر بیوی کے مطالبہ پر ایک طلاق دے۔ اس طلاق کے بعد رجوع کا موقع تو نہیں رہتا ہے، تاہم دونوں کی رضامندی سے نیا نکاح کبھی بھی ہوسکتا ہے۔

اصلاح حال کا دوسرا راستہ یہ ہے کہ خود خلع کے نظام کو بہتر بنایا جائے، اور مرد کے لئے قانونی طور سے یہ لازمی قرار دیا جائے کہ اگر عورت سمجھانے بجھانے کے باوجود ساتھ رہنے پر آمادہ نہیں ہوتی ہے، تو مرد لازمی طور سے خلع کے مطالبے کو قبول کرے، اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو قاضی یا اس کے قائم مقام شرعی نظام ورنہ تو پھر محلہ اور گاؤں کے لوگ خلع کو دونوں پر نافذ کردیں۔ شوہر کو اس کا مہر واپس دلادیں اور بیوی کو اس سے آزاد قرار دے دیں۔

اصلاح کی یہ کوشش ہمیں اپنی فقہی تاریخ میں کہیں کہیں نظر آتی ہے۔ جمہور کی رائے تو یہی تھی کہ خلع کے مطالبے کو قبول کرنا شوہر کے لئے ضروری نہیں ہے، تاہم علامہ ابن تیمیہ (ت ۷۲۸ھ) نے اس مسئلے پر اپنے تردد کو درج کیا، چنانچہ علامہ ابن تیمیہ کی طرف دونوں رائیں منسوب کی گئیں، اور اس کے بعد سے حنبلی فقہ میں دونوں رایوں کا تذکرہ ہونے لگا،  مشہور حنبلی فقیہ علامہ محمد بن مفلح المقدسی (ت ۷۶۳ھ) لکھتے ہیں کہ شام کے کچھ فاضل مقدسی قاضیوں نے خلع کو لازم کیا۔ وَأَلْزَمَ بِهِ بَعْضُ حُكَّامِ الشَّامِ الْمَقَادِسَةُ الْفُضَلَاءُ۔ (الفروع)۔ غیر سنی فقہ میں اس کا تذکرہ ہمیں پانچویں صدی کے لٹریچر میں بھی ملتا ہے، ملاحظہ ہو ابوجعفر طوسی کی کتاب النھایۃ۔

سعودی عرب میں چونکہ حنبلی مسلک رائج ہے، اس لئے وہاں اس سلسلے میں بہت نمایاں پیش رفت ہوئی۔ وہاں کے پہلے مفتی شیخ محمد بن ابراھیم بن عبداللطیف آل الشیخ (ت ۱۳۸۹ھ) بعد ازاں مشہور زمانہ عالم ومفتی شیخ بن باز، اور شیخ ابن عثیمین اور پھر دوسرے اہل علم نے اس موقف کو بہت قوت کے ساتھ پیش کیا، ان اہل علم نے سنت رسول سے بھی استدلال کیا، اور عورت کے مطالبہ خلع کو نظرانداز کرنے کے بہت سے اضرار ومفاسد کا حوالہ بھی دیا۔ ان لوگوں نے اس پر بھی زور دیا کہ خلع کی کارروائی جلد مکمل کرلی جائے، اس کے لئے مہینوں اور برسوں عورت کو معلق نہیں رکھا جائے۔

خلع کے سلسلے میں مولانا مودودی بھی لکھتے ہیں: اگر عدالت میں معاملہ جائے، تو عدالت صرف اس امر کی تحقیق کرے گی کہ آیا فی الواقع یہ عورت اس مرد سے اس حد تک متنفر ہوچکی ہے کہ اس کے ساتھ اس کا نباہ نہیں ہوسکتا۔ اس کی تحقیق ہوجانے پر عدالت کو اختیار ہے کہ حالات کے لحاظ سے جو فدیہ چاہے تجویز کرے، اور اس فدیے کو قبول کرکے شوہر کو اسے طلاق دینا ہوگا۔ (تفہیم القرآن)

اس عبارت میں ایک اور نکتہ بہت اہم ہے، وہ یہ کہ عورت کس قدر متنفر ہے، اس کی تحقیق ہونی چاہئے، آیا اس قدر تنفر کے ساتھ اسے شوہر کے ساتھ رہنا چاہئے؟ اصل اہمیت اسی پہلو کی ہے۔ ممکن ہے تنفر کی وجہ بہت معمولی اور غیر اہم لگتی ہو، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شوہر کی طرف سے کوئی کوتاہی یا بدسلوکی نہ ہو، لیکن اگر تنفر ناقابل برداشت ہو تو اس تنفر کا لحاظ کیا جائے گا۔ خلع کے ایک واقعہ میں کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر نے اسی طرح کی تحقیق کی، اور تنفر کی شدت دیکھ کر خلع کا حکم صادر کردیا۔ اب اگر عورت میکے میں جا کر بیٹھ گئی ہے، اور کسی طور واپسی کے لئے تیار نہیں ہے، بلکہ علیحدگی کی خاطر مہر بھی لوٹانے کو تیار ہے، تو سمجھنا چاہئے کہ تنفر ناقابل برداشت حد تک پہونچ چکا ہے۔ اور اگر لڑکی کے ولی اور اہل خانہ بھی خلع کے مطالبہ کی تائید کریں تب تو یہ مطالبہ بہت زیادہ مضبوط ہوجاتا ہے، اور اسے نظر انداز کرنے کی کوئی وجہ نہیں رہ جاتی ہے، کیونکہ یہ ایک عورت کے بجائے ایک خاندان کا مطالبہ ہوجاتا ہے۔

واضح رہنا چاہئے کہ عہد رسالت اور عہد خلافت میں ہمیں ایسا کوئی واقعہ نہیں ملتا ہے جس میں بیوی نے خلع مانگا ہو، اور اس کے باوجود اسے شوہر کے ساتھ رہنے پر مجبور ہونا پڑا ہو۔ خلع کے سلسلے میں مذکور واقعات میں اس پر تو گفتگو ملتی ہے کہ شوہر خلع کے عوض بیوی سے کس کس چیز کو واپس مانگے، لیکن خود بیوی کو زبردستی ساتھ رکھنے کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ خلع خالص بیوی کا حق ہے، جس طرح طلاق خالص شوہر کا حق ہے، بیوی کو اس حق سے محروم کرنا ہرگز درست نہیں ہے۔

عہد رسالت میں خلع کے واقعہ یا واقعات سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ خلع کا عمل ایک بہت ہی آسان اور رواں (Smooth and Easy) عمل ہونا چاہئے، اسے پیچیدہ اور دشوار بنانا روح شریعت کے خلاف ہے، اس عمل کو طول دینا اور دنیا وآخرت کی وعیدیں سنا کر بیوی کو شوہر کے ساتھ رہنے کے لئے مجبور کرنا کسی طرح مناسب نہیں ہے۔ یہ دین کے مزاج اور اس کی عظمت کے خلاف ہے کہ تنفر اور بیزاری کے باوجود دین کا حوالہ دے کر دونوں کو ساتھ رہنے پر مجبور کیا جائے۔ ہمیں یقین ہونا چاہئے کہ اگر دونوں میں نیک نیتی اور خدا ترسی کے ساتھ علیحدگی ہوتی ہے، تو اللہ دونوں کے لئے خیر کی نئی راہیں پیدا کردے گا۔ {وَإِنْ يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّهُ كُلًّا مِنْ سَعَتِهِ وَكَانَ اللَّهُ وَاسِعًا حَكِيمًا} [النساء: 130]

تحریک کا ستون کون بنے

تحریک کا ستون کون بنے
ترجمہ: محی الدین غازی
(تحریکوں میں اس پر گفتگو زیادہ ہوتی ہے کہ امارت کا اہل کون ہے، لیکن ایسے افراد کی ضرورت پر گفتگو کم ہوتی ہے جو تحریک کا ستون بننے کی ذمہ داری قبول کریں۔ عظیم تحریکی مفکر محمد احمد راشد کا ایک تحریک افروز پیغام پیش ہے)
اسلامی تحریک پر گہری نگاہ ڈالنے سے احساس ہوتا ہے کہ ایک تحریکی کارکن ہونے کی حیثیت سے ہمیں شدید ضرورت ہے ایک محبت سے لبریز آغوش کی جو ہمیں سمالے، ایک کشادہ سینے کی جو ہماری پریشانیوں کو سمیٹ لے، ایک سوز مند دل کی جو ہماری فکر میں تڑپ اٹھے، ایک شفقت بھرے ہاتھ کی جو ہمارے کاندھوں کو تھپکی دیتا رہے، ایک نگہبان آنکھ کی جو ہماری چال پر نظر رکھے، ایک اعلی دماغ کی جو ہماری سمت سفر درست کرتا رہے۔
ہمیں ضرورت ہے اس کی کہ جب ہم غلطی کریں تو ہم سے روبرو ہو کر مسکرادے، ہم ناکامی سے دوچار ہوں تو دوبارہ کوشش کرنے پر اکسادے، اور ہم پھسلنے لگیں تو ہمارا ہاتھ تھام لے۔
ضرورت ہے اس کی کہ جب ہم مشکل میں پڑیں تو وہ آسانیاں سجھائے، ہم مایوسی کے شکار ہوں تو منزل کی نوید سنائے، ہم پریشان ہوجائیں تو تسلی دے اور ہم جلدبازی کرنے لگیں تو صبر کا درس دے۔
ضرورت ہے اس کی جو غور سے سننے کا ہنر جانتا ہو، اس کی نہیں جسے انکار کردینے کی جلدی رہتی ہو۔ اس کی جو تعریف کرنے کا ہنر جانتا ہو، اس کی نہیں جسے تنقید کرنے کی جلدی رہتی ہو۔ اس کی جو نظر انداز کرنے کا ہنر جانتا ہو، اس کی نہیں جسے ملامت کرنے کی جلدی رہتی ہو۔
ضرورت ہے اس کی جو پیار سے سمجھائے، نرمی سے سکھائے، محبت سے اکسائے، جس کی دعوت حکیمانہ ہو، اور جس کی تربیت مشفقانہ ہو۔
ضرورت ہے اس کی جو ہمارے دلوں کو نصب العین پر جمع کردے، اور ہماری کوششوں کا رخ مقصد کی طرف مرکوز کردے۔
ضرورت ہے اس کی جو خود غرضی سے اوپر اٹھ جائے، اور جسے اپنی تعریف سننے کا شوق نہ ہو۔
ضرورت ہے اس کی جو ہماری صلاحیتوں کو پہچانے، توجہ دے کر انہیں پروان چڑھائے، اس کی نہیں جو انہیں کچل دے اور دفن کردے۔
ضرورت ہے اس کی جو ہماری توانائیوں سے واقف ہوسکے، انہیں متحرک کردے، اور انہیں صحیح جگہ لگائے۔ اس کی نہیں جو انہیں زنگ آلود کردے اور انہیں بجھادے۔
ضرورت ہے اس کی جو ہمارے امکانات پر بھروسہ کرے، اور ہماری قوتوں پر اطمینان رکھے، اور ہمیں یہ احساس دلائے کہ ہم کچھ کردکھانے کی طاقت رکھتے ہیں۔
ضرورت ہے اس کی جو ہمیں کمر بستہ کرے ، ہمارے حوصلے بلند کرے، اور ہماری کمزوری کو قوت میں بدل دے۔
ضرورت ہے اس کی کہ جب ہمیں ٹھوکر لگے تو ہمارا راستہ ہموار کردے، سامنے اندھیرا چھا جائے تو روشنی کردے، اور حیرانی سے دوچار ہوں تو ہمیں ہماری منزل دکھادے۔
ضرورت ہے اس کی کہ جب ہم رک جائیں تو ہمیں آگے بڑھائے، جمود کا شکار ہوجائیں تو تحریک پیدا کرے، بزدلی دکھائیں تو بہادری کا جام پلائے، اور بیٹھ جائیں تو ہاتھ پکڑ کے کھڑا کردے۔
ضرورت ہے اس کی کہ جب ہم سوجائیں تو بیدار کردے، بھول جائیں تو یاد دلادے، غفلت کا شکار ہوجائیں تو خبردار کردے۔
ضرورت ہے اس کی کہ جب ہم آگے بڑھنے میں دیر کریں تو وہ سب سے آگے بڑھ جائے، جب ہم خیر کے کاموں میں پیچھے ہٹنے لگیں تو وہ پیش قدمی کرے، اور جب ہم سستی کا شکار ہونے لگیں تو وہ اپنی رفتار تیز کردے۔
ضرورت ہے اس کی جو اپنے علم سے ہمیں سیراب کرے، اپنی خیرخواہی سے ہمیں نوازتا رہے، اور اپنے تجربات سے ہمیں مالا مال کرے۔
ضرورت ہے اس کی کہ جو ہماری پیش قدمیوں سے خوش ہو، ہماری فتوحات سے مسرور ہو، اور ہماری ترقیوں پر کھل اٹھے۔
ضرورت ہے ہمیں اس کی جس کی فکر میں تازہ ہوا کے جھونکے آتے رہیں، جس کے کاموں سے جدت وتخلیقیت نمایاں ہو، اور جس کی وسیع نگاہ تحریک کے ہر پہلو پر محیط ہو، وہ تحریک کے کسی پہلو کو کسی پہلو سے دبنے نہ دے، ہر پہلو کو بھرپور توجہ اور قرار واقعی مقام دے۔
چند لفظوں میں کہنا ہو تو کہوں:
 ہمیں ایک ستون کی ضرورت ہے، ایک پناہ گاہ کی ضرورت ہے، ایک سائے بان کی ضرورت ہے، ایک شفقت سے لبریز آغوش کی ضرورت ہے۔
اگر ایسا ہے، اور واقعی ایسا ہے تو میرے بھائی تم آگے بڑھ جاؤ، دیر مت کرو، تمہارے آس پاس سب منتظر ہیں، آغاز اپنی ذات سے کرو اور وہ آغوش جس کی سب آس لگائے بیٹھے ہیں وہ تم بن جاؤ۔

’سبحان ربی العظیم‘‘ کی انقلاب آفرینی

’سبحان ربی العظیم‘‘ کی انقلاب آفرینی
محی الدین غازی
(تسبیح کا مطلب ہے اللہ کی پاکی اور اس کی عظمت بیان کرنا۔ تسبیح کرتے ہوئے صرف چند الفاظ زبان سے ادا نہیں ہوتے ہیں، بلکہ دل ودماغ میں ایک زبردست قسم کا انقلاب آتا ہے، اور ایک مثالی شخصیت تیار ہوتی ہے، تسبیح والی شخصیت۔ اللہ اور اس کے رسول نے تسبیح کے لئے بہت سے بلیغ اور معنی خیز جملے سکھائے ہیں، سبحان ربی العظیم بھی تسبیح کی بہت خوب صورت تعبیر ہے، اسے اس تحریر میں تسبیح کی ایک مثال کے طور پر ذکر کیا گیا ہے)
سبحان ربی العظیم کہہ کر ہم اپنےایمان ویقین کا اظہار کرتے ہیں، کہ اللہ کی ذات پاک ہے اور عظیم ہے، اللہ نے جو دین ہمارے لئے پسند کیا ہے، جو کتاب ہماری ہدایت کے لئے بھیجی ہے، اور جس رسول کو ہمارے لئے نمونہ بناکر بھیجا ہے، وہ سب کچھ پاک اور عظیم ہے۔ جو شخص اپنی پوری زندگی اللہ کے رنگ میں رنگنے کا فیصلہ کرچکا ہو، اس کے لئے ایمان ویقین کا یہ احساس بہت اطمینان بخش ہوتا ہے ۔
سبحان ربی العظیم بے پناہ خوشی اور تشکر کا اظہار ہے، خوشی اس بات کی کہ ہم نے اپنے پاک اور عظیم رب کو پالیا ہے، اور اس سے بندگی کا حسین رشتہ جوڑ لیا ہے۔ اس دنیا میں بہت سے انسان پاک وصاف اور باعزت بندگی سے محروم ہیں، وہ ایسی چیزوں اور ایسے لوگوں کے سامنے جھکتے ہیں، جن کے سامنے جھک کر وہ سربلند نہیں ہوتے بلکہ ذلیل ورسوا ہوجاتے ہیں۔ عزت وسربلندی تو پاک اور عظیم رب کا بندہ بن جانے پر ملتی ہے، گمراہیوں کے ہجوم میں انسان کو پاک اور عظیم رب کی پہچان ہوجائے یہ اس کی سب سے بڑی خوش نصیبی اور کامیابی ہے۔ اس پر وہ اپنے رب کا جس قدر شکر ادا کرے اور اس کی جتنی زیادہ تسبیح کرے کم ہے۔
سبحان ربی العظیم ایک زبردست عہد ہے، کہ ہم اپنے پاک اور عظیم رب کے سلسلے میں کوئی ایسا خیال دل میں بسنے نہیں دیں گے جو اس کی پاکی اور عظمت کے منافی ہو، اور کوئی ایسا عقیدہ اختیار نہیں کریں گے، جس سے اس کی پاکی اور عظمت پر آنچ آتی ہو۔ تسبیح ایک زبردست کسوٹی ہے جس پر بہت سے خیالات اور نظریات کو پرکھا جاسکتا ہے۔ جب انسان تسبیح کی اس حقیقت سے غافل ہوجاتا ہے، تو وہ اللہ کے سلسلے میں غلط خیالات کو دل میں جگہ دے دیتا ہے، حالانکہ اس کے ہاتھ میں تسبیح کے دانے اور اس کی زبان پر تسبیح کے الفاظ ہوتے ہیں۔
سبحان ربی العظیم کہہ کر ہم یہ اظہار بھی کرتے ہیں کہ پاکی اور عظمت کی ہمارے دل میں بڑی قدرومنزلت ہے، یہ صفات ہمارے لئے بہت اہم صفات ہیں، اسی لئے ہم ہر آن خاص طور سے اللہ کی پاکی اور اس کی عظمت کا چرچا کرتے ہیں۔ ہم پاکی اور عظمت کو اللہ کی طرف منسوب کرکے اطمینان محسوس کرتے ہیں کہ گویا ہمیں اللہ کے شایان شان بات کہنے کی توفیق مل گئی۔ پاکی اور عظمت کو اہم سمجھنا بہت خاص بات ہے۔ بہت فرق ہوتا ہے اس شخص کے فکروعمل میں جو پاکی اورعظمت کی قدر جانتا ہو، اور اس شخص کے فکروعمل میں جو اسے نہیں جانتا ہو۔ زندگی کا نقشہ بناتے ہوئے یہ بات بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ آپ کے نزدیک کن چیزوں کی قدروقیمت بہت زیادہ ہے۔
سبحان ربی العظیم کہنے سے انسان کے اندر اپنےاحتساب کی ایک زبردست تحریک اٹھتی ہے، تسبیح کے الفاظ پکار پکار کر کہتے ہیں کہ اے پاک اور عظیم رب کی تسبیح بیان کرنے والے ذرا اپنا جائزہ لے، کیا پاک اور عظیم رب کو ’’میرا رب‘‘ کہنے والے کے لئے زیبا ہے کہ وہ پاکی اور بلندی کے بہت اونچے مقام پرپہونچنے کی کوشش نہیں کرے؟ وہ اونچے سے اونچا مقام جہاں ایک انسان کو پہونچنا چاہئے۔ یہ کیا ماجرا ہے کہ تم اس پر توخوش ہو کہ تمہیں پاک اور عظیم رب مل گیا، لیکن اس کے لئے بے چین نہیں ہوتے کہ تم پاک اور عظیم رب کے پاک اور عظیم بندے بن جاؤ۔ اگر تم بھی ناپاکی اور ذلت وپستی سے اسی طرح مانوس ہو گئے ہو جس طرح جھوٹے معبودوں کی پرستش کرنے والے ہیں، اور اگر پاک اور عظیم رب سے نسبت کا تمہاری زندگی پر کوئی اثر نہیں ہورہا ہے، تو یہ بڑی بدنصیبی کی بات ہے۔
سبحان ربی العظیم کے اندر تزکیہ نفس کا بڑا سامان ہے، جب ایک بندہ دل کی گہرائی سے بار بار یہ کہتا ہے کہ میرا رب پاک ہے، اور میرا رب عظیم ہے، تو تسبیح کے ہر جملے کے ساتھ اسے اپنے اندرون کو پاک کرنے اور بلندیوں کا سفر کرنے کے لئے تحریک اورمدد ملتی ہے۔ قرآن مجید کی بہت سی آیتیں یہ حقیقت سمجھاتی ہیں۔
سبحان ربی العظیم کہہ کر انسان کو بڑا حوصلہ ملتا ہے کہ دنیا میں گندگی اور پستی کو کتنا ہی زیادہ رواج مل چکا ہو، اور نجاست کتنی ہی زیادہ طاقت کے ساتھ انسانوں پر مسلط ہوچکی ہو، لیکن پاکی اور عظمت کا سفر شروع کرنے کے سارے مواقع ابھی بھی نہ صرف یہ کہ موجود ہیں، بلکہ انسان سے بہت قریب بھی ہیں۔ جب پا ک اور عظیم رب سے قربت اور اس کی تسبیح کی توفیق حاصل ہوگئی تو گویا پاکی کا سرچشمہ ہاتھ آگیا اور عظمت کی بلندیوں تک لے جانے والی شاہراہ مل گئی۔ جب انسان گندگی کے دلدل میں پھنسا ہو تو وہاں سے نکلنے کے لئے حوصلے کی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔
سبحان ربی العظیم کہنے والے کی زندگی کو ہر پہلو سے پاکیزہ ہونا چاہئے، اس کا عقیدہ بالکل پاک وصاف ہو، اس کے خیالات میں بلا کی پاکیزگی ہو، اس کا کردار بے داغ ہو، وہ ہر وقت اپنے دامن کی حفاظت کرے، اور اگر کوئی داغ لگ جائے تو ندامت وتوبہ کے آنسووں سے فورا دھو ڈالے۔ شرم گاہ کی حفاظت کرے اور نگاہ نیچی رکھے۔ جس زبان سے سبحان ربی العظیم ادا ہورہا ہے وہ زبان ہر گندگی سے پاک رہے۔ اورجس دل میں سبحان ربی العظیم کے نغمے بسائے جارہے ہوں، اس دل کی پاکی اور طہارت کا خیال رکھا جائے۔
سبحان ربی العظیم، کہہ کر انسان بلندی اور عظمت کے سفر کا آغاز کرے، اور سبحان ربی العظیم کہتے ہوئے اس سفر کو جاری رکھے، خیالات کی بلندی، عزائم اور حوصلوں کی بلندی، زندگی کے مقصد کی بلندی، زندگی کی دوڑ بھاگ اور محنت ومشقت کے اہداف کی بلندی، زندگی کی عمارت کی کرسی کی بلندی، کمانے میں بھی بلندی اور خرچ کرنے میں بھی بلندی، غرض زندگی کے ہر پہلو میں بلندی کی طرف جانے کا شوق نظر آئے۔
غرض تسبیح کا عمل اللہ کے حضور اپنی بندگی کے جذبات کا اظہار بھی ہے، اور اپنی شخصیت کی تعمیر کا وعدہ بھی ہے۔
اللہ کی قدرت وعظمت کے احساس سے دل جھکنے لگے، زندگی ہر عیب سے پاک ہونے لگے، اور قدم بلندیوں کی طرف بڑھنے لگیں، تو سمجھو کہ رکوع میں سبحان ربی العظیم، اور سجدے میں سبحان ربی الاعلی کہنے کا حق ادا ہورہا ہے۔ اور نماز عشق واقعی ادا ہورہی ہے۔

شادی کی تقریبات

شادی کی تقریبات
 ایک نئی دوڑ شروع کرنے کی ضرورت
محی الدین غازی
پہلے شادی کے خرچ کا ناقابل برداشت بوجھ لڑکی والوں پر ہوتا تھا، یا تو کوئی جائیداد فروخت کرنا پڑتی تھی، یا پھر قرض لینا پڑتا تھا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ لڑکی والوں کے ساتھ لڑکے والے بھی اچھا خاصا زیربار اور اکثر مقروض ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ شادی کی تقریب اب دونوں فریقوں کے لئے محض دولت کی نمائش کی ایک تقریب بن کر رہ گئی ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ شادی جیسی خوشی کی تقریب سماج کے لئے پہلے سے زیادہ تکلیف دہ، پریشان کن اور بہت سی سماجی برائیوں کو بڑھاوا دینے کا ذریعہ بنتی جارہی ہے۔ بہت زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ مسلم سماج بھی اس میں بری طرح لت پت نظر آتا ہے۔
شادی کی تقریب کو خانہ آبادی کے آغاز کی ایک حسین صورت اور سماج کے لئے خیر وبرکت کا ایک عالی شان دروازہ ہونا تھا۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ شادی کی محفل سے جاری ہونے والے نیکی اور بھلائی کے میٹھے چشمے سارے سماج کو سیراب کرتے، ناکہ شادی خانوں کی نالیوں سے بہنے والا برائیوں کا گندا پانی ہر طرف پھیل کر گندگی مچاتا پھرے۔
ایک بہت بڑی سماجی بیماری جو شادی کی گود میں جنم لیتی اور پلتی بڑھتی ہے، اور پھر پورے سماج میں کینسر کی طرح پھیل جاتی ہے وہ دولت کی نمائش ہے۔ زندگی میں دولت کی نمائش کا سب سے بڑا اور سب سے کامن موقعہ شادی کا موقعہ ہوتا ہے۔ لوگ دکھانا چاہتے ہیں کہ ان کے پاس دولت ہے اور وہ دولت خرچ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ جو دکھانا نہیں چاہتا ہے، سماج کا چوکھٹا اسے بھی ڈھکیل کر دکھانے والوں میں شامل کردیتا ہے۔
بہت سے دولت مندوں کے پاس دولت تو بہت زیادہ ہوتی ہے، لیکن خرچ کرنے کے صحیح مقامات ان مسکینوں کی پہونچ سے باہر ہوتے ہیں، شادی کا موقعہ ان کے لئے دولت کی نمائش کا سنہری موقعہ ہوتا ہے، وہ پانی کی طرح پیسہ بہاتے ہیں، دولت کی ایسی نمائشوں سے دوسرے لوگوں کی آنکھیں بھی خیرہ ہوتی ہیں، اور وہ ان کی نقالی میں اپنے سروں پر قرضوں کا بوجھ لاد لیتے ہیں، ضد یہ ہوتی ہے کہ شادی دھوم دھام سے کرنی ہے چاہے اس کے لئے قرض لینا پڑے، اب تو بڑھتی ہوئی مانگ کو دیکھتے ہوئے بینکوں کی جانب سے خاص شادی کے نام پر گمراہ کن اشتہاروں کے ساتھ قرضے پیش کئے جاتے ہیں۔
دولت کی نمائش سے دولت کی نمائش کا مقابلہ جنم لیتا ہے، انفرادی برائی اجتماعی برائی بن جاتی ہے، ایک بھائی نے گھر سے نکل کر شادی ہال میں شادی کی، تو دوسرے بھائی نے تین ستارہ ہوٹل بک کیا، اور تیسرا بھائی پانچ ستارہ ہوٹل تک پہونچ گیا۔ جو تقریب بہت اختصار کے ساتھ کچھ لوگوں کی شرکت سے انجام پاسکتی تھی، اس میں سینکڑوں کو دعوت دی گئی، اور جس محفل کو سادگی کے ساتھ سجایا جاسکتا تھا، اسے مصنوعی طور پر رنگین بنانے کے لئے لاکھوں لٹادئے گئے۔ حاصل کچھ نہیں، صرف نمائش کے مقابلے میں اضافہ، کچھ لوگوں کے دل میں یہ بے جا حسرت کہ ہم ایسا کچھ نہیں کرسکتے، اور کچھ لوگوں کے دل میں یہ حقیر خواہش کہ ہم اس سے زیادہ کرکے دکھائیں گے۔
شادی کی تقریبات میں ہونے والی فضول خرچیوں اور نمائش کا بہت خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ معاشرے میں فضول خرچی اور دولت کی نمائش کے رجحان کو پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ اور جس معاشرے میں فضول خرچی اور دولت کی نمائش کا مقابلہ رواج کی شکل اختیار کرلیتا ہے، وہاں سے سکون وچین تو رخصت ہوتا ہی ہے، انسانی قدریں بھی رخصت ہوجاتی ہیں۔
زیادہ خرچ کرنے کا نشہ زیادہ کمانے کی دھن کو جنم دیتا ہے، اور اگر کمانے کے مواقع ساتھ نہ دیں تو مایوسی چھا جاتی ہے، دوسری طرف اپنے خود ساختہ معیارکی نمائش کا جنون بھلائی کے کاموں پر خرچ کرنے میں رکاوٹ بن جاتا ہے، سماج سے باہمی ہم دردی اور غم گساری کے قیمتی جذبات رخصت ہونے لگتے ہیں۔ لالچ اور خود غرضی بڑھ جاتی ہے۔ اور انسانی سماج اپنی خصوصیات کھونے لگتا ہے۔ افسوس آج شادی جیسی مبارک تقریب محبت سے زیادہ صارفیت کی ہمت افزائی کا ذریعہ بن گئی ہے۔
فضول خرچی اور نمائش والی شادیوں سے خود شادی کے پورے نظام کو سخت خطرہ لاحق ہے، شادیوں پر خرچ کا دن بدن اونچا ہوتا معیار، اور پھر معیاری شادی کرنے پر ہر کسی کا اصرار، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آسان سا بیاہ ایک بہت بھاری بوجھ بن گیا ہے۔ جس سماج میں شادی کو مشکل بنادیا جائے، وہاں بے شمار برائیاں جنم لیتی اور پھیلتی ہیں۔ شادی کو تو زندگی کا سب سے آسان کام ہونا چاہئے۔ شادی سماج کا ایک بہت مضبوط پشتہ ہے، اس کی حفاظت ضروری ہے، یہ پشتہ ٹوٹ گیا تو شیطانیت کا سیلاب ساری انسانیت کو تباہی کی طرف بہا لے جائے گا۔
سماج کی موجودہ صورت حال بے شک پریشان کن ہے، اس صورت حال سے کوئی بھی با ضمیر انسان مطمئن نہیں رہ سکتا ہے، لیکن لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی رسم ورواج کے شکنجوں میں کسے ہوئے ہیں۔ ایسے میں کیا ایسے سماج کا خواب دیکھا جاسکتا ہے جہاں شادی میں بھاری مصارف کا تکلیف دہ بوجھ نہ ہو، فضول خرچی اور دولت کی نمائش نہ ہو، نہ جہیز ہو نہ بارات ہو، نہ شادی ہال ہوں اور نہ بیوٹی پارلر ہوں، نہ بڑی بڑی دعوتیں ہوں، نہ طرح طرح کے پکوان ہوں، نہ بے جا تکلفات ہوں اور نہ گھٹیا مطالبات ہوں۔ صرف شادی ہو اور شادمانی ہو۔ دو دلوں کے درمیان محبت کا خوب صورت آغاز ہو اور دو خاندانوں کے درمیان الفت کی حسین شروعات ہو۔
محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ’’سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں خرچ سب سے کم ہو‘‘۔ اس ارشاد نبوی میں ایک نئی دوڑ شروع کردینے کا پیغام ہے۔ اب یہ مسلمانوں کو طے کرنا ہے کہ جب ہر طرف زیادہ خرچ والی شادیوں کا مقابلہ چل رہا ہے، فضول خرچی اور اسراف کے ریکارڈ توڑے اور بنائے جارہے ہیں، انسانیت اپنے مستقبل کو لے کر پریشان ہے، کیا عاشقان رسول کم سے کم خرچ والی شادی کی ایک دوڑ شروع کرسکتے ہیں۔ ایک مبارک دوڑ جو سماج کو ایک اچھا رواج (Trend) دے، اور ملت کو انسانیت کے لئے ایک اچھا نمونہ بنادے۔

طلاق کا طریقہ اور طلاق کا سلیقہ

طلاق کا طریقہ اور طلاق کا سلیقہ
محی الدین غازی
شوہر اور بیوی کا رشتہ وہ واحد رشتہ ہے جو انسانوں کے قائم کرنے سے قائم ہوتا ہے، اور انسانوں کے ختم کرنے سے ختم ہوجاتا ہے۔ اللہ پاک نے سب سے اہم رشتے کو انسانوں کے اختیار میں دے دیا ہے۔ اور یاد رہے کہ اس دنیا میں جو کام اللہ تعالی نے انسانوں کے حوالے کئے ہیں، وہی دراصل امتحان کے خاص سبجیکٹ ہیں، اس لئے نکاح اور نکاح کے بعد کی زندگی، طلاق اور طلاق کے بعد کی زندگی تقوی اور پرہیزگاری کے سائے میں گزارنی چاہئے، یہ سوچ کر کہ یہ رشتہ ایک بڑے امتحان کا خصوصی پرچہ ہے۔
طلاق کا ایک ہی طریقہ ہے جس کے صحیح ہونے پر سارے اہل علم کا اتفاق ہے، اور وہ یہ کہ جب ضرورت ہو تو آدمی ایک طلاق دے دے۔ ایک سے زیادہ طلاق کا خیال ہی دل میں نہ لائے، نہ ایک بار میں دو تین طلاق دے اور نہ وقفے وقفے سے دو تین طلاق دینے کے بارے میں سوچے۔
یہی طلاق کا صحیح طریقہ ہے، اور یہی طلاق کا احسن طریقہ ہے۔ تاہم اگر کوئی احسن طریقے والی طلاق بھی سلیقے سے نہیں بلکہ بے ڈھنگے طریقے سے دی جائے، تو پھر وہ احسن طلاق نہیں رہ جاتی، بلکہ بے سلیقہ طلاق ہوجاتی ہے۔ اور بے سلیقہ کام نہ خدا کو پسند ہے، اور نہ خلق خدا کو اچھا لگتا ہے۔
اگر طلاق دینے کا محرک عورت پر ظلم کرنا، اس کو ستانا، اور اس سے یا اس کے گھر والوں سے انتقام لینا ہو، یا اپنے کسی اور نفسانی جذبے کی تسکین کرنا ہو، تو اس طرح کے گھٹیا محرک کے ساتھ طلاق دینا ایک گھٹیا عمل کہہ لائے گا۔ خواہ طلاق دینے کا طریقہ فقہی لحاظ سے احسن ہی کیوں نہ ہو۔ ظاہر ہے اللہ کسی گھٹیا کام کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ ظلم وزیادتی کی ہر صورت کو اللہ نے حرام کیا ہے، خواہ وہ ظلم طلاق دے کر کیوں نہ کیا جائے۔ اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے اس دن سے جب ایسی طلاق کو آگ کا طوق بنا کر ظالم کے گلے میں ڈالا جائے گا۔
طلاق دی جائے تو اس طرح کہ دینی اخوت پر آنچ نہ آئے، نفرت کی آگ نہ بھڑکے، نہ کسی کے ساتھ زیادتی ہو اور نہ کسی کی حق تلفی ہو، بلکہ سخاوت اور فیاضی ہو، حکمت اور سمجھ داری ہو، طلاق دیتے ہوئے بھی اعلی اخلاق وکردار کا اظہار ہو۔ یہ سلیقے والی طلاق ہے۔
ہونا یہ چاہئے کہ طلاق سے پہلے دونوں کے گھروں سے ایک ایک سمجھ دار آدمی آگے بڑھے، دونوں سچے دل سے اللہ کی رضا کی خاطر معاملات سدھارنے کی کوشش کریں، جس کی طرف سے زیادتی کا ارتکاب ہورہا ہو، اسے زیادتی سے تائب ہونے کی صلاح دیں، جس کے اندر کمی ہے، اسے کمی کو دور کرنے کی ممکنہ راہ سجھائیں، اور اگر یقین ہوجائے کہ طلاق ہی واحد راستہ رہ گیا ہے، تو دونوں کو اور دونوں کے اہل خانہ کو خوش دلی سے نئی صورت حال قبول کرنے پر آمادہ کریں، تاکہ جب طلاق ہو تو ممکنہ حد تک نارمل حالات میں ہو، سب لوگ طلاق کے فیصلہ سے کسی حد تک مطمئن ہوچکے ہوں۔
طلاق دینے کا یہ طریقہ کہ واٹس اپ اور میسنجر کے ذریعہ دور بیٹھا شوہر طلاق لکھ کر بھیج دے، نہ کوئی افہام وتفہیم ہو، نہ دونوں خاندانوں کے بیچ گفت وشنید ہو، نہ اصلاح حال کی کوئی صورت تلاش کی جائے، نہ حالات کو بہتر بنانے کے لئے اللہ سے دعا کی جائے، غرض نہ مشورہ ہو اور نہ استخارہ ہو، تو یہ طلاق قانون کی رو سے ہو تو جائے گی، لیکن طلاق دینے کا ایسا پھوہڑ انداز جس پر بیوی ہی نہیں ساری دنیا تھو تھو کرے، کسی مسلمان کے شایان شان نہیں ہوسکتا ہے۔ اس طرح کے پھوہڑ پن سے دونوں خاندانوں کو تو نقصان پہونچتا ہی ہے، لیکن سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اللہ کی شریعت بدنام ہوتی ہے، اور اللہ کے دشمنوں کو ہنسنے کا موقعہ ملتا ہے۔
اگر لڑکی کی طرف سے خلع کا مطالبہ ہو، تو لڑکے کو چاہئے کہ اپنی کمی یا کوتاہی دور کرنے کے لئے مناسب وقت مانگے، اور لڑکی تیار نہ ہو تو دونوں خاندانوں کے بزرگوں سے مشورہ کرکے ایک طلاق دے دے۔ یہ گھٹیا سوچ کہ میں اسے طلاق نہ دے کر یونہی لٹکائے رکھوں گا، زبردستی ساتھ رہنے پر مجبور کروں گا، یا خوب پریشان کرنے کے بعد طلاق دوں گا، ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتی۔ اس طرزعمل سے شریعت بدنام ہوتی ہے، اور جو کام شروع میں پرامن طریقے سے ہوسکتا تھا، وہ کافی ٹوٹ پھوٹ ہوجانے کے بعد ہوتا ہے۔
جدائی کا فیصلہ ہوجانے کی صورت میں دونوں کو چاہئے کہ مستقبل کے معاملات مثبت انداز سے باہمی مشورے کے ذریعہ طے کرلیں۔ خاص طور سے بچوں کے سلسلے میں ضد، انا اور ہٹ دھرمی کا رویہ اختیار کرنے کے بجائے اس رخ پر سوچیں کہ بچوں کے لئے مفید اور بے ضرر راستہ کیا ہوگا۔ اللہ پاک کا صاف حکم ہے کہ نہ ماں کوئی ایسا فیصلہ کرے جس سے بچے کو ضرر پہونچے، اور نہ باپ کوئی ایسا اقدام کرے جس سے بچے کو نقصان پہونچے، اپنی اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر دونوں یہ عزم کریں کہ طلاق ہونے کے بعد بھی اللہ کی اس امانت کی بہترین دیکھ ریکھ کے لئے انہیں بہتر سے بہتر راستہ اختیار کرنا ہے۔
طلاق کے موقعہ پر شوہر کو چاہئے کہ وہ اپنی حد استطاعت سے بھی کچھ آگے بڑھ کر سخاوت وفیاضی کا ثبوت دے، اور رخصت کرتے ہوئے مطلقہ بیوی کو ثواب کی نیت سے زیادہ سے زیادہ دے کر رخصت کرے۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ اس موقعہ پر جو فیاضی کا معاملہ کرے گا، اللہ اس سے خوش ہوگا اور اسے بہت نوازے گا۔ یاد رکھئے کہ اللہ کے نزدیک یہ سخاوت کرنے کا بہت ہی خاص موقعہ ہے۔
طلاق ہو یا خلع ہو، ایک مسلمان کی نظر میں دینی اخوت کا احترام باقی رہنا چاہئے، شوہر اور بیوی کی جدائی اس انداز سے نہ ہو کہ ان کے درمیان یا ان کے خاندانوں کے درمیان نفرت اور دشمنی پیدا ہوجائے اور دینی اخوت پارہ پارہ ہوجائے۔ یہ صرف اسلامی معاشرے کا امتیاز ہے، کہ طلاق بھی ہوجائے اور معاشرے کے تمام اجزا سلامت بھی رہیں، کہیں کچھ ٹوٹ پھوٹ نہیں ہو۔ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس امتیاز کی حفاظت کرے، خواہ اس کے لئے کچھ قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ ایسی ہر قربانی کا اللہ کے یہاں ضرور بڑا اجر ملے گا۔
ہمارے معاشرے میں طلاق دینے والے مرد اور طلاق پانے والی عورت کو عیب دار سمجھا جاتا ہے، اس وجہ سے بھی طلاق ایک پیچیدہ کیس بن جاتا ہے۔ طلاق کو ایک داغ سمجھنے والی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ طلاق ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ اب کہیں بھی نکاح اور نباہ کے قابل نہیں رہے۔ طلاق پانے والی عورتوں کا بہتر سے بہتر رشتہ فراہم کرنے کی خاطر معاشرے کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہئے۔ یہ بھی اسلامی معاشرے کا امتیاز ہے، جس کا بھرپور اظہار ہونا چاہئے، کہ ہر ہونے والی طلاق میں ایک نئے رشتے کی نوید ہو۔

مسلم پرسنل لا، ایک اصلاحی مہم کی ضرورت

مسلم پرسنل لا، ایک اصلاحی مہم کی ضرورت
محی الدین غازی
’’بیوی کے ساتھ میرے تعلقات خراب ہوگئے ہیں، جدائی کی نوبت آگئی ہے، تاہم میں طلاق نہیں دوں گا بلکہ انتظار کروں گا کہ بیوی خلع لے لے، کیونکہ پہلی صورت میں مجھے مہر کی رقم دینی پڑے گی، اور دوسری صورت میں مہر معاف ہوجائے گا‘‘ یہ جملہ میں نے کئی بار سنا ہے۔ اس جملے سے قانونی مہارت تو ظاہر ہوتی ہے لیکن ایمان واخلاق کا نور ذرا نظر نہیں آتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر زندگی پر عقیدہ واخلاق کی حکمرانی ہو تو انسان سخی اور فیاض بن جاتا ہے، اور اگر زندگی صرف قانونی داؤپیچ کی نذر کردی جائے تو انسان خود غرض اور بخیل ہو کر رہ جاتا ہے۔ بڑا فرق ہوتا ہے اس انسان میں جو صرف قانون کی سطح پر جیتا ہے، اور اس انسان میں جو ایمان واخلاق کی بلندیوں میں پرواز کرتا ہے۔ ایمان واخلاق کا حصار نہ ہو تو اسلامی قانون سے بھی بے شمار حیلے اور دھوکے نکال لئے جاتے ہیں۔
قرآن مجید میں قانون، ایمان اور اخلاق تینوں باہم ودگر اس طرح جڑے ہوئے نظر آتے ہیں، کہ انہیں الگ الگ کرکے دیکھنے کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن مجید پر عمل کرنے والے کے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہوتا ہے کہ وہ قانون سے ملنے والے حق کو تو بڑھ کر لے لے، لیکن اخلاق کی طرف سے عائد ہونے والے تقاضے کو نظر انداز کردے۔
قانون کتنا ہی اچھا ہو، وہ اخلاق کا بدل نہیں ہوسکتا۔ یہ بات ایک مثال سے سمجھی جاسکتی ہے، کہ سڑک پر کوئی نامعلوم شخص حادثے کا شکار ہو کر تڑپ رہا ہو، ایسی صورت میں اگر قانون رکاوٹوں سے بھرا ہو تو لوگ اسے اٹھا کر اسپتال لے جاتے ہوئے ڈریں گے، کہ کہیں وہ خود الزام کی زد میں نہ آجائیں، اور انہیں تھانے اور عدالت کے چکر لگانے پڑیں، قانون اگر معاون ہو تو لوگ اسے اسپتال لے جاتے ہوئے خوف محسوس نہ کریں گے۔ تاہم محض قانون خواہ وہ کتنا ہی اچھا ہو لوگوں کے اندر یہ جذبہ پیدا نہیں کرسکتا ہے کہ وہ نفع نقصان سے بے نیاز ہوکر ایک نامعلوم زخمی کو اسپتال لے جائیں۔ یہ جذبہ تو عقیدہ واخلاق سے پیدا ہوتا ہے۔
عائلی قانون کے حوالے سے ذیل کی کچھ مثالوں پر اس پہلو سے بھی غور کریں:
قانون کی رو سے بلاوجہ طلاق دینے سے بھی طلاق ہوجاتی ہے، اور تین طلاقیں دینے سے تین طلاقیں بھی ہوجاتی ہیں، لیکن ایمان واخلاق کا تقاضا ہے کہ انسان بنا ضرورت طلاق نہ دے، اور طلاق دے تو بس ایک ہی طلاق دے، طلاق سے پہلے اصلاح حال کی ساری کوششیں کرڈالے، طلاق کا فیصلہ لینے سے پہلے بزرگوں سے مشورہ اور اللہ کے حضور خیر کی دعا کرلے، اور اس پورے عمل میں کہیں خود غرضی اور نفس پرستی کو بیچ میں نہ آنے دے۔
قانون کی رو سے شوہر چاہے تو بیوی کے خلع مانگنے پر بھی اسے خلع نہ دے، لیکن اخلاق کا تقاضا ہے کہ اگر بیوی ساتھ رہتے ہوئے خوش نہ ہو، تو بیوی کو ساتھ رہنے پر مجبور نہ کرے، سمجھانے بجھانے کے لئے کچھ وقت ضرور مانگے، لیکن اسے اپنی بیوی بنے رہنے اور گھٹ گھٹ کر جینے پر مجبور نہ کرے۔ اور اگر خود اس کی کسی کمزوری کی وجہ سے بیوی خلع طلب کررہی ہو تو کسی معاوضہ کا مطالبہ بھی نہ کرے۔
قانون کی رو سے ہوسکتا ہے طلاق دینے والے کے لئے ضروری نہ ہو کہ وہ طلاق شدہ بیوی کو کچھ دے، لیکن اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ایسے وقت میں سخاوت وفیاضی کی ایک یادگار مثال قائم کرے۔
قانون کی رو سے ہوسکتا ہے کہ یتیم پوتے کو دادا کے ترکے میں سے حصہ نہ ملے، لیکن اخلاق کا تقاضا ہے کہ زندہ بھائی خود آگے بڑھ کر اپنے مرحوم بھائی کے بچوں کو وراثت میں اتنا ہی حصہ دے دے جتنا خود اسے مل رہا ہے۔
یہ قانونی دفعات نہیں بلکہ اخلاقی تعلیمات ہی ہیں جن سے متاثر ہوکر ایک انسان یتیم بچوں کو اپنی سرپرستی میں لے لیتا ہے، اور سایہ زوجیت سے محروم ہوجانے والی عورتوں کو آگے بڑھ کر زوجیت کا سائے بان پیش کرتا ہے، خواہ اسے کتنی ہی آزمائشوں سے گزرنا پڑے۔ یہ اخلاقی تعلیمات ہی ہیں جو خیر اور بھلائی کے بڑے بڑے کاموں کا محرک بن جاتی ہیں۔
اسلامی قانون اسلامی معاشرہ کا امتیاز ہے، اس سے بہتر قانون پیش نہیں کیا جاسکتا ہے، تاہم اسلامی معاشرہ کا اس سے بھی بڑا امتیاز وہ اخلاقی تعلیمات ہیں جو رب حکیم کی طرف سے قانون کے ساتھ ساتھ عطا کی گئی ہیں۔ اسلامی قانون کی ساری آب وتاب انہیں سے ہے۔ ایمان واخلاق کا ساتھ نہ ہو تو قانون بے روح اور بے کشش ہو کر رہ جاتا ہے۔ یاد رہے صرف قانون کی حکمرانی سے اسلامی معاشرہ ایک مثالی معاشرہ نہیں بن سکتا ہے۔ ایک پرکشش مثالی اسلامی معاشرہ کے لئے قانون سے پہلے اور قانون سے کہیں زیادہ ایمان واخلاق کی حکمرانی ضروری ہے۔
قرآن مجید میں جہاں نکاح وطلاق کے قوانین بیان ہوئے ہیں، وہاں تقوی اور احسان کے بار بار تذکرہ سے واضح ہوتا ہے کہ ان قوانین پر عمل آوری کے وقت اللہ کے سامنے جواب دہی کا شدید احساس اور لوگوں کے ساتھ بہترین اخلاق کے ساتھ پیش آنے کا طاقت ور جذبہ بہت ضروری ہے۔ تقوی کا مطلب ہے ضمیر کی وہ طاقت ور آواز جسے کوئی مصلحت دبا نہ سکے، اور احسان کا مطلب ہے اخلاق کی وہ آخری بلندی جہاں انسان پہونچ سکتا ہو۔
اسلام کے عائلی قانون میں بہت سی باتیں اجتہادی ہونے کی وجہ سے اختلافی بھی ہوسکتی ہیں، ہر ہر دفعہ پر طویل بحث بھی ہوسکتی ہے، لیکن ایمان واخلاق کے تقاضوں میں کوئی تقاضا اختلافی نہیں ہے، جو بھی ہے وہ متفقہ طور پر لائق ستائش ہے۔ اسلام کے عائلی قانون کی فکر کرنے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ عائلی قوانین کا رشتہ ایمان واخلاق سے دوبارہ جوڑنے کی مہم چلائیں۔ یہ رشتہ جب تک بحال نہ ہوگا اسلام کے عائلی قوانین خطرات سے دوچار رہیں گے، اور مسلم معاشرہ ان گنت عائلی مسائل سے پریشان رہے گا۔
مسلم پرسنل لا کے حوالے سے جو مہمات منائی جاتی رہی ہیں، ان میں مفتیانہ اور مدافعانہ لب ولہجہ حاوی رہا ہے۔ عائلی قانون کے حوالے سے ہر فتوے کا دفاع، اور ہر فتوے پر شدید اصرار۔ احساس ہوتا ہے کہ اب مسلمانوں کی ضرورت ایک ایسی اصلاحی مہم ہے، جس کا مقصد، دفاع سے آگے بڑھ کر مسلم سماج کے ہر اس پہلو کی اصلاح ہو جہاں خرابی در آئی ہے۔